🐇 خرگوش اور کچھوا — سست روی میں کامیابی کا راز

🐇 خرگوش اور کچھوا — سست روی میں کامیابی کا راز
🌿 تعارف

“خرگوش اور کچھوا” ایسوپ (Aesop) کی مشہور ترین کہانیوں میں سے ایک ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ غرور اور لاپرواہی ہمیشہ نقصان پہنچاتی ہے،
جبکہ صبر، مستقل مزاجی اور محنت آخرکار کامیابی دلاتی ہے۔

📖 کہانی

ایک دن جنگل میں ایک تیز دوڑنے والا خرگوش اپنے دوستوں کے سامنے فخر سے کہہ رہا تھا:

“میرے جیسا کوئی نہیں! میں جنگل کا سب سے تیز جانور ہوں۔ کوئی مجھ سے آگے نہیں نکل سکتا!”

سب جانور ہنس رہے تھے، مگر ایک خاموش، سست مگر پُرعزم کچھوا آگے آیا اور بولا:

“خرگوش بھائی، میں تمہیں دوڑ کا چیلنج دیتا ہوں!”

سب جانور حیران رہ گئے۔
خرگوش ہنسا اور بولا:

“تم؟ میرے ساتھ دوڑو گے؟ تم تو بہت آہستہ چلتے ہو!”

کچھوے نے اطمینان سے کہا:

“دیکھ لیتے ہیں، جو آخر تک صبر سے چلے گا، وہی جیتے گا۔”

دوڑ کا دن آ گیا۔ سب جانور جمع ہوئے۔ لومڑی نے جھنڈی ہلائی اور دوڑ شروع ہوئی۔
خرگوش بجلی کی رفتار سے دوڑا اور کچھ دیر میں کافی آگے نکل گیا۔
کچھوا آہستہ آہستہ، مگر بغیر رکے آگے بڑھتا رہا۔

خرگوش نے پیچھے مڑ کر دیکھا — کچھوا بہت پیچھے تھا۔
اس نے سوچا:

“ارے، یہ تو بہت وقت لے گا۔ تھوڑا آرام کر لیتا ہوں۔”

وہ ایک درخت کے نیچے جا کر سو گیا۔


کچھوا چپ چاپ آگے بڑھتا رہا۔
اس نے نہ رکا، نہ سست ہوا۔

کچھ دیر بعد کچھوا منزل کے قریب پہنچ گیا۔
تبھی خرگوش کی آنکھ کھلی۔
اس نے گھبرا کر دوڑ لگائی — مگر دیر ہو چکی تھی۔
کچھوا سب کے سامنے منزل کی لکیر پار کر چکا تھا!


خرگوش شرمندہ ہو گیا، اور کچھوا فخر سے بولا:

“دوڑ ہمیشہ تیز قدموں سے نہیں، مستقل قدموں سے جیتی جاتی ہے۔”

💡 کہانی کا اخلاقی سبق

“سست مگر پُرعزم شخص ہمیشہ جیتتا ہے۔”
“غرور انسان کو نیچے گراتا ہے، اور صبر کامیابی کی چابی ہے۔”