👻 دروازے کے پیچھے کھڑا سایہ

👻 کہانی شروع ہوتی ہے


1. نیا گھر… نیا آغاز… یا نیا خوف؟

علیشہ اپنے والدین کے ساتھ ایک نئے گھر میں شفٹ ہوئی تھی۔
گھر دو منزلہ تھا، سامنے درختوں کا گھنا سایہ، اندر خاموشی، اور لمبا سا کوریڈور۔

علیشہ کا کمرہ اوپر والی منزل کے آخر میں تھا۔
دروازہ باہر کی طرف کھلتا تھا — سامنے اندھیرے سے بھری گیلری۔

پہلی دو راتیں سکون سے گزریں…
مگر تیسری رات کچھ ایسا ہوا جو اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے خوف بسا گیا۔


2. سائے کی پہلی جھلک

رات تقریباً 1:40 کا وقت تھا۔
بارش کی ہلکی سی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔

علیشہ اچانک آنکھ کھلنے پر چونک گئی —
جیسے کوئی اسے گھور رہا ہو۔

اس نے آہستہ سے دروازے کی طرف دیکھا۔
دروازہ بند تھا، مگر…

دروازے کے نیچے کی جھری سے ایک سیاہ سایہ دکھائی دے رہا تھا۔
جیسے کوئی دروازے کے بالکل پیچھے کھڑا ہو۔

اس نے ہمت کر کے فوراً دروازہ کھولا۔

کوریڈور—
بالکل خالی۔

اس نے اسے وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
لیکن یہ صرف آغاز تھا۔


3. ہر رات سایہ تھوڑا اور قریب

اگلی رات…
وہی وقت…
وہی سیاہ سایہ…

لیکن اس بار سایہ دروازے سے تھوڑا پیچھے ہٹا ہوا تھا۔
تیسری رات مزید دور… مگر کوئی چلتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔

ایسا لگتا جیسے وہ سایہ
ہر رات کوریڈور سے چلتے چلتے اس کے دروازے تک آ رہا ہو۔

علیشہ نے یہ بات والدین کو بتائی، مگر انہوں نے اسے ڈراؤنا خواب سمجھا۔

لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ خواب نہیں… حقیقت تھی۔


4. قدموں کی آوازیں — اور خوف کی انتہا

چھٹی رات…
سایہ صرف کھڑا نہیں تھا — چل بھی رہا تھا۔

کوریڈور میں آہستہ آہستہ قدموں کی آواز گونج رہی تھی:

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

سایہ دروازے کے عین سامنے آ کر رک گیا۔

دروازے کی نیچے والی جھری سے
سایہ سانس لیتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

علیشہ کا دل دھڑکنے لگا۔
وہ چیخنا چاہتی تھی، مگر آواز نہ نکلی۔


5. بڑھیا کی وارننگ

اگلے دن محلے کی ایک بڑھیا نے علیشہ کی ماں سے کہا:

“اس گھر میں پہلے بھی ایک لڑکی رہتی تھی…
وہ بھی کہتی تھی کہ کوئی رات کو دروازے کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔
ایک رات اس نے دروازہ کھول دیا…
پھر وہ کبھی واپس نہیں آئی۔”

یہ سن کر سب کے ہوش اُڑ گئے۔
علیشہ نے سچ سچ سب کچھ بتا دیا۔

خاندان نے فیصلہ کیا کہ آج رات وہ سب جاگیں گے۔


6. آخری رات — جب سایہ دروازہ توڑنے لگا

رات کے 1:40 ہوئے ہی تھے کہ اچانک…

دروازے پر زور دار دستک ہونے لگی:

ٹھک… ٹھک… ٹھک۔۔۔

دروازہ ہل رہا تھا۔
جھری سے سیاہ انگلیاں اندر آنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

وہ سایہ اب صرف کھڑا نہیں تھا…
وہ اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

علیشہ نے چیخ ماری۔
اسی لمحے اس کے والدین بھاگتے ہوئے اوپر آئے۔

انہوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا—
سایہ پوری رفتار سے پیچھے ہٹا
اور کوریڈور کے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

لیکن فرش پر گہرے سیاہ قدموں کے نشان رہ گئے تھے…
جو اچانک کوریڈور کے درمیان میں جا کر ختم ہو جاتے تھے۔


🕯️ سایہ تھا کیا؟

بعد میں پتا چلا کہ گھر کے پچھلے مالکان کی ایک بیٹی سالوں پہلے گم ہو گئی تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ اسے کسی اندھیرے وجود نے کوریڈور سے اٹھا لیا تھا۔
کچھ کہتے تھے وہ خود سایہ بن گئی تھی۔

سچ کیا تھا؟
کوئی نہیں جانتا۔

لیکن ایک بات طے تھی:

وہ سایہ اب بھی اس گھر کی راہداری میں آتا ہے…
اور کسی نئی روح کا انتظار کرتا ہے…
جو دروازہ کھول دے۔


🩸 نتیجہ

“دروازے کے پیچھے کھڑا سایہ” صرف ایک ڈراونی کہانی نہیں —
یہ اس خوف کا احساس ہے جو ہم سب نے کبھی نہ کبھی محسوس کیا ہے:

کہ کوئی ہمیں اندھیرے میں خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔

کبھی کبھی…
وہ صرف احساس نہیں ہوتا۔