ایمانداری بہترین پالیسی ہے
🌟 ایمانداری بہترین پالیسی ہے
🌿 تعارف
ایمانداری ایک ایسی خوبی ہے جو کبھی پرانی نہیں ہوتی۔
چاہے گھر ہو، اسکول یا معاشرہ — سچ بولنے والا ہر جگہ عزت پاتا ہے۔
یہ کہانی دکھاتی ہے کہ ایک سچی فیصلہ انسان کی زندگی کیسے بدل سکتا ہے۔
📖 کہانی: دکان دار کا انوکھا گاہک
ایک پرسکون قصبے میں کیان نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔
اس کے والدین کی ایک چھوٹی سی کریانہ دکان تھی جہاں کیان اسکول کے بعد مدد کرتا تھا۔
دکان بہت بڑی نہیں تھی، مگر پورے قصبے کے لوگ ان پر بھروسہ کرتے تھے، کیونکہ وہ اپنے سچائی کے لیے مشہور تھے۔

ایک بارش والی شام، دکان بند ہونے ہی والی تھی کہ ایک بوڑھا شخص اندر داخل ہوا۔
اس کے کپڑے پھٹے پرانے، ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔

اس نے چند سستی چیزیں خریدیں — روٹی، چائے کا ڈبہ اور چاول کا چھوٹا بیگ۔
کیان نے سامان پیک کیا اور احترام سے اسے تھما دیا۔

بوڑھا آدمی پیسے دے کر آہستہ آہستہ باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد جب کیان کاؤنٹر صاف کر رہا تھا تو اسے ایک چھوٹا چرمی تھیلا نظر آیا۔

تھیلا کھولا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔
اس کے اندر سونے کے سکے، جائیداد کے کاغذات اور ایک چابی تھی۔
یہ سب بہت قیمتی اور ضروری چیزیں تھیں۔
کیان کے ذہن میں پہلا خیال آیا:
“یہ ضرور اسی بوڑھے شخص کا ہے!”

مگر فوراً دوسرا خیال آیا:
“کسی نے دیکھا بھی نہیں…
اگر میں یہ رکھ لوں تو؟
ہماری دکان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے…”

ان کے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے۔
دکان سے بمشکل کرایہ نکلتا تھا۔
یہ دولت ان کی زندگی بدل سکتی تھی۔
مگر دل کی گہرائی میں ایک اور آواز تھی—
اس کے والد اکثر کہتے تھے:
“بیٹا، بےایمانی سے آیا ہوا مال کبھی سکون نہیں دیتا۔
سچائی سب سے اچھی پالیسی ہے — چاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ ہو۔”

کچھ لمحے سوچنے کے بعد کیان نے فیصلہ کر لیا۔
وہ چھتری پکڑ کر تیز بارش میں باہر نکلا اور بوڑھے شخص کو تلاش کرنے لگا۔
سڑکیں سنسان تھیں۔
بالآخر، وہ ایک ٹوٹی ہوئی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھے ہوئے بوڑھے شخص کے پاس پہنچا، جو سردی سے کانپ رہا تھا۔
کیان نے آگے بڑھ کر کہا:
“سر، آپ یہ تھیلا دکان میں بھول گئے تھے۔”

بوڑھے آدمی نے تھیلا دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔
وہ کیان کے ہاتھ پکڑ کر بولا:
“بیٹا، اس تھیلے میں میری ساری زندگی کی جمع پونجی ہے۔
آج میں نے زمین بیچی کیونکہ میرا کوئی خاندان نہیں۔
تم چاہو تو اسے رکھ سکتے تھے… کوئی بھی نہیں جانتا۔
لیکن تمہاری ایمانداری نے مجھے بچا لیا۔”
کیان کے دل میں ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی — ایسی جو پیسوں سے کبھی نہیں ملتی۔

بوڑھا شخص اٹھا اور کہنے لگا:
“میں تمہیں کچھ دینا چاہتا ہوں۔”
اس نے تھیلے میں سے چابی نکالی اور کیان کے ہاتھ میں رکھ دی۔
“یہ چابی قصبے میں موجود ایک اسٹور روم کی ہے۔
اس میں کچھ ضروری سامان رکھا ہے۔
مجھے اس کی اب ضرورت نہیں۔
یہ تمہارا ہے — بطور انعام نہیں، بلکہ تمہاری سچائی کی قدر کے طور پر۔”

بعد میں کیان اور اس کے والد اس کمرے میں گئے۔
اندر چاول، گندم، ڈبہ بند کھانے اور ضروری چیزوں کے ڈھیر تھے — اتنے کہ وہ اپنی دکان کو بڑا کر سکتے تھے اور اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے تھے۔
اس دن کیان نے سچائی کا اصل فائدہ سمجھا:
ایمانداری فوراً امیر نہیں بناتی…
لیکن غیر متوقع نعمتیں ضرور دیتی ہے۔

