🐜 چیونٹی اور ٹڈا — محنت اور سستی کی سبق آموز کہانی
🌿 تعارف
“چیونٹی اور ٹڈا” ایسوپ (Aesop) کی مشہور کہانیوں میں سے ایک ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محنت، منصوبہ بندی، اور ذمہ داری انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے،
جبکہ سستی اور وقت ضائع کرنا پچھتاوے کا باعث بنتا ہے۔
📖 کہانی
ایک دن کی بات ہے۔ گرمیوں کا موسم تھا، سورج چمک رہا تھا، اور فضا میں خوشی کا سماں تھا۔
ایک خوش مزاج ٹڈا (Grasshopper) کھیت میں اچھلتا، گاتا، اور مستی کرتا پھر رہا تھا۔
قریب ہی ایک محنتی چیونٹی (Ant) اپنے بل میں دانے جمع کرنے میں مصروف تھی۔
ٹڈے نے چیونٹی کو دیکھا اور ہنس کر بولا:
“ارے چیونٹی! تم اتنی گرمی میں کیوں کام کر رہی ہو؟ آؤ میرے ساتھ گیت گاؤ، لطف اٹھاؤ!”

چیونٹی نے مسکرا کر جواب دیا:
“میں سردیوں کے لیے خوراک جمع کر رہی ہوں۔ ابھی موسم اچھا ہے، بعد میں مشکل ہو جائے گا۔ تمہیں بھی کچھ جمع کر لینا چاہیے۔”

ٹڈا ہنسا اور بولا:
“ابھی تو بہت وقت ہے! زندگی کا مزہ لو!”
یوں سارا موسم گرما چیونٹی محنت میں گزارتی رہی، اور ٹڈا گاتا، کھیلتا، ناچتا رہا۔

پھر آئی سردیوں کی راتیں۔
ہر طرف برف پڑی تھی، زمین سخت تھی، اور کھانے کو کچھ نہ تھا۔
بیچارا ٹڈا بھوکا پیاسا کانپ رہا تھا۔
اسے چیونٹی یاد آئی۔ وہ اس کے گھر گیا اور بولا:
“پیارے دوست! میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ ذرا کچھ دانے دے دو، بھوک سے برا حال ہے۔”
چیونٹی نے جواب دیا:
“میں نے گرمیوں میں محنت کی، تم کھیلتے رہے۔ اب تمہیں اپنے وقت کے ضائع ہونے کی قیمت چکانی ہوگی۔”

یہ کہہ کر چیونٹی نے دروازہ بند کر دیا۔
ٹڈا پچھتایا، مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
اس دن اس نے سیکھ لیا کہ وقت پر محنت ہی اصل خوشی کا راستہ ہے۔

💡 کہانی کا اخلاقی سبق
“جو آج محنت کرے گا، وہ کل سکون پائے گا۔”
یا یوں کہیں:
“وقت پر کام کرو، تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔”

