😱کشمیر کا خالی ہوٹل – ایک ڈراؤنی رات کی کہانی

پچھلے سال کی بات ہے، جب میں اور میرے تین دوست — احمد، بلال اور حمزہ — کشمیر گھومنے کا پلان بنا رہے تھے۔
ہم سب یونیورسٹی کے دوست تھے، اور کافی دنوں سے کہیں گھومنے جانے کا سوچ رہے تھے۔
آخرکار جب چھٹیاں ملیں تو ہم نے گاڑی نکالی اور سیدھا مظفرآباد کی طرف نکل پڑے۔

راستہ بہت خوبصورت تھا — برف سے ڈھکی پہاڑیاں، ٹھنڈی ہوا، اور گھنے درخت۔
ہم سب ہنسی مذاق کرتے جا رہے تھے۔
شام تک جب ہم ناران کے قریب پہنچے تو موسم اچانک بدل گیا۔
بارش شروع ہو گئی اور دھند اتنی زیادہ تھی کہ سڑک نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ آج رات کہیں رک جاتے ہیں۔
GPS پر دیکھا تو قریب ہی ایک پرانا سا ہوٹل نظر آیا — “Hill View Guest House”۔
ہم نے سوچا کہ بس یہی ٹھیک ہے، چلو ادھر ہی رک جاتے ہیں۔


🏚 ہوٹل کا منظر

ہوٹل کافی پرانا لگ رہا تھا۔ لکڑی کی دیواریں، مدھم سی لائٹس، اور اندر سے ایک عجیب سی بو آ رہی تھی — جیسے پرانی چیزوں سے آتی ہے۔
ریسپشن پر ایک بوڑھا بندہ بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے تھے، آواز بہت مدھم تھی۔
وہ بولا:

“کمرے ہیں، مگر اوپر والا فلور مت لینا…”

ہم سب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے۔
احمد نے مزاق میں کہا،

“کیا وہاں کوئی بھوت رہتا ہے؟”

بوڑھا چپ رہا، صرف اتنا بولا،

“کمرہ نیچے لے لو، رات گزار لو، صبح چلے جانا۔”

ہم نے بات کو ہنسی میں اڑا دیا اور نیچے والا کمرہ لے لیا۔


🌧 رات کا آغاز

رات کے تقریباً بارہ بجے بجلی چلی گئی۔
باہر بارش تیز ہو گئی تھی اور ہوا درختوں سے ٹکرا کر ڈراؤنی آوازیں نکال رہی تھی۔

حمزہ بولا،

“یار چلو اوپر چل کے دیکھتے ہیں، آخر وہ بوڑھا اوپر جانے سے کیوں منع کر رہا تھا؟”

پہلے تو ہم ہچکچائے، مگر پھر سب ہنسنے لگے — “چلو چل کے دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے!”

ہم چاروں نے موبائل کی فلیش آن کی اور اوپر جانے لگے۔
سیڑھیاں پرانی تھیں، ہر قدم پر چرچراہٹ کی آواز آ رہی تھی۔
جیسے ہی اوپر پہنچے، پورا فلور سنسان اور ٹھنڈا تھا۔
دیواروں پر پرانی تصویریں لگی تھیں — کچھ بگڑی ہوئی، کچھ ادھوری۔


😨 وہ کمرہ

ایک دروازے پر “Room No. 7” لکھا ہوا تھا — اور عجیب بات یہ تھی کہ وہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔
ہم نے اندر جھانکا — کمرہ بالکل خالی تھا، بس ایک پرانی کرسی اور ٹوٹی ہوئی الماری۔

بلال بولا,

“یہی وہ کمرہ ہوگا جس کے لیے ہوٹل والے نے منع کیا تھا۔ شاید یہاں کوئی حادثہ ہوا ہوگا۔”

اتنے میں احمد نے کرسی کو ہاتھ لگایا — جیسے ہی اس نے اسے سیدھا کیا، پیچھے سے دروازہ زور سے بند ہو گیا!

ہم سب چونک گئے۔
دروازہ کھل ہی نہیں رہا تھا۔
فلیش لائٹ بار بار بند ہو رہی تھی۔

پھر اچانک الماری کے اندر سے کسی کے چلنے کی آواز آئی۔

احمد چلایا,

“کون ہے وہاں؟!”

مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
بلال نے ہمت کی اور الماری کھولی — اندر صرف ایک پرانا کوٹ لٹکا ہوا تھا۔
لیکن نیچے زمین پر گیلے پاؤں کے نشان بنے ہوئے تھے، جو کمرے سے باہر جا رہے تھے!


👣 نشان اور چیخ

ہم سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
نشان باہر ہال کی طرف جا رہے تھے، مگر ہال خالی تھا۔

پھر اچانک نیچے سے اسی بوڑھے ریسپشن والے کی آواز آئی —

“میں نے کہا تھا اوپر مت جانا…”

ہم بھاگتے ہوئے نیچے آئے، مگر نیچے کوئی نہیں تھا۔
ریسپشن خالی تھا۔
دروازہ بند تھا — جیسے کسی نے باہر سے لاک کر دیا ہو۔

پھر اچانک بجلی آ گئی۔
ہم نے ادھر ادھر دیکھا، مگر بوڑھا غائب تھا۔
ہم نے کسی طرح کھڑکی توڑی، باہر نکلے اور گاڑی کی طرف دوڑ پڑے۔

جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی “Hill View Guest House” کا بورڈ زمین پر گرا ہوا تھا، اور اس پر لکھا تھا:

“Closed Since 1998”


😰 اگلی صبح

اگلی صبح ہم مظفرآباد کے ایک کیفے میں بیٹھے ہوئے خاموش تھے۔
لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ ہوٹل پچیس سال پہلے بند ہو چکا ہے۔

کیونکہ وہاں ایک فیملی سردی میں مر گئی تھی…
اور تب سے وہاں رات کو روشنی جلتی نظر آتی ہے۔ 🌒